ممبئی، 27؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) جمہوریت کو غلط پیرائے میں استعمال کرتے ہوئے آج ملک میں جمہوریت کو منفی طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ ذات پات کے نام پر ناانصافی کی جارہی ہے۔ مذہب کے نام پر لنچنگ ہورہی ہے۔ آئین مخالف ماحول پیدا کرکے کچھ لوگ آج ملک میں سیکولرازم کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ یہ باتیں آج یہاں این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے یومِ آئین کے موقع پر ممبئی این سی پی کے سماجی انصاف شعبے کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام میں خطاب کے دوران کہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر نے آج کے ہی دن ملک کا آئین پیش کیا تھا جس میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ بھارت ایک جمہوری اور سوشلسٹ وسیکولر ملک رہے گا۔ آئین میں ترمیم میں جاسکتی ہے لیکن یہ ترمیم بھی آئین کے ہی مطابق ہونی چاہئے نیز آئین میں ترمیم کا اختیار حکومت کو ہے۔ لیکن آئین کی بنیاد میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی ہے جس کی صراحت بھی آئین میں موجود ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ ہمارے ساتھ ہی دیگر کئی ممالک آزاد ہوئے لیکن ان ممالک میں جمہوریت قائم نہیں رہ سکی۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کی برقراری ہمارے آئین کی مضبوطی واستحکام کی وجہ ہے۔ جمہوریت میں سب کو برابر کے حقوق دئے گئے ہیں۔ایک جمہوری ملک میں حکمران آقا نہیں بلکہ خادم ہوتے ہیں اور ملک کے عوام ہی ملک چلانے کے لیے نظام کا انتخاب کرتے ہیں۔
نواب ملک نے کہا کہ آئین کے ذریعے معاشرے میں معاشی عدم مساوات کو ختم کرنا حکومت کا کام ہے۔ لیکن آج 11 فیصد لوگ ملک کی 90 فیصد دولت کے مالک ہیں اور 90 فیصد کے پاس محض 10 فیصد دولت ہے۔ یہ مساوات پر مبنی معاشرہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ملک میں جو پالیسیاں بنائی جارہی ہیں ان کا مقصد امیر کومزید امیر بنانا ہے۔نواب ملک نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ بیچنے والے لوگ ہیں جبکہ اڈانی اور امبانی خریدار ہیں۔مساوات پر مبنی معاشرہ ہمارے آئین کا بنیادی اصول ہے لیکن افسوس کہ مرکز ی حکومت اس کو تباہ کررہی ہے۔
نواب ملک نے کہا کہ فیصلہ کرنے کا حق ہمیں آئین نے دیا ہے۔اگر عوام کو تسلیم نہ ہو تو عوام کو حکومت مخالف موقف اختیار کرنے کا حق ہے۔ عوام کے ذریعے ایسا موقف اختیار کرنے کے بعد حکومت کے پاس دو قدم پیچھے ہٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا جسے ملک کے کسانوں نے اپنے احتجاج سے دکھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی قوم پرستی منووادی نظریے پر مبنی ہے۔بی جے پی سماج میں ذات پات کے نظام کودوبارہ واپس لانا چاہتی ہے۔یہ جعلی قوم پرستی ہے اور ہم اسے ہرگزقبول نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارت ایک سیکولر، سوشلسٹ اور جمہوری نظام کا حامل ملک ہے اور یہی راشٹروادی کانگریس کا راشٹر واد ہے۔ ہماری قوم پرستی آئین کے اصولوں کے مطابق ہے اور اس کو برقرار رکھنے کے لئے ہمیں جدوجہد کرنی ہوگئی۔